دنیا جو اتنی ستم گر نہ ہوتی
ہم کو بھی اتنی فکر نہ ہوتی
جو نہ ہوتی دکھ بھری کہانی اپنی
پھر کہیں بھی وجہ ذکر نہ ہوتی
پھر تو جینا بھی محال تھا
میرے سنگ تو بھی اگر نہ ہوتی
یہ تیری محبت کی ہے عنایت ورنہ
مر جاتے کسی کو خبر نہ ہوتی
ہم بھی اس در کو چھوڑ جاتے
تیری مہک او جاناں جدھر نہ ہوتی
No comments:
Post a Comment