تیری نسبت سے جہاں میں پہچانے گئے
ہم جب بھی ھہاں گئے مانے گئے
جہاں ذکر ہوا محبت کے فقیروں کا
گائے اپنے بھے لیئے کچھ ترانے گئے
اُس سے فقط رسوائیاں میں ہم کو
ہم جب بھی کسی کو منانے گئے
آتشِ عشق کی کیا بات کریں صاحب
جل اس میں بھی کئی گھرانے گئے
وہاں آنسوؤں کی برسات کر آئے ہم
کہانی اپنی جس در پہ سنانے گئے
No comments:
Post a Comment