میں محبت کا راہی تو میرا ہمسفر
رہا کہانی سے ہماری زمانہ یہ بے خبر
میرا مجرم جہاں سارا ، تیرا تو بس میں
مجھے رسوا کر ، زلت دے، کچھ تو کر
ساحلِ عشق پہ بھٹکنا مہنگا پڑ ہی گیا
بہا لے گئی مجھے محبت کی اک لہر
وصلِ یار کی طلب بھی عجب سی ہے
اک پل نہ ہوتا ہے ہم سے صبر
مدثر سے عشق نے یہ کیا کر دیا
ہو گئے وہ ہم سفر، جو تھے فقط راہگزر
رہا کہانی سے ہماری زمانہ یہ بے خبر
میرا مجرم جہاں سارا ، تیرا تو بس میں
مجھے رسوا کر ، زلت دے، کچھ تو کر
ساحلِ عشق پہ بھٹکنا مہنگا پڑ ہی گیا
بہا لے گئی مجھے محبت کی اک لہر
وصلِ یار کی طلب بھی عجب سی ہے
اک پل نہ ہوتا ہے ہم سے صبر
مدثر سے عشق نے یہ کیا کر دیا
ہو گئے وہ ہم سفر، جو تھے فقط راہگزر
No comments:
Post a Comment