03:45 pm | 24-12-2017

میں محبت کا راہی تو میرا ہمسفر
رہا کہانی سے ہماری زمانہ یہ بے خبر

میرا مجرم جہاں سارا ، تیرا تو بس میں
مجھے رسوا کر ، زلت دے، کچھ تو کر

ساحلِ عشق پہ بھٹکنا مہنگا پڑ ہی گیا
بہا لے گئی مجھے محبت کی اک لہر

وصلِ یار کی طلب بھی عجب سی ہے
اک پل نہ ہوتا ہے ہم سے صبر

مدثر سے عشق نے یہ کیا کر دیا
ہو گئے وہ ہم سفر، جو تھے فقط راہگزر

No comments:

Post a Comment