اک تمنا سی ہو رہی تھی کب سے
عجب سی موت مانگ رہا ہوں رب سے
اُس کے پہلو میں ہو سر، مر جاؤں
وہ جو میرا ہے اور الگ سب سے
وہ اِک ظالم نظر جب مجھ پہ پڑی
بھٹک رہا ہوں میں در در تب سے
وہ جس کا پتہ صدیوں بعد مِلا مجھے
پڑا رہوں گا تیرے در پہ اب سے
No comments:
Post a Comment