04:40 pm | 24-12-2017

ہیں دوریاں تو بیشک، پیار اب بھی باقی ہے
دل پہ میری تمہارا، اختیار اب بھی باقی ہے

جس کے ہاتھوں جاں سے بھی گئے ہم
تمہاری نظر کی جانآں! تلوار اب بھی باقی ہے

لوگ خوش ہیں صنم ہم کو دور دیکھ کر
کس کو خبر، دلِ بے قرار اب بھی باقی ہے

ارے یہ جدائی کا موسم ہر وقت کا نہیں ہے
ہمارے وصل کی اک بہار اب بھی باقی ہے

04:31 pm | 24-12-2017

میرے درد کی تم کو خبر کہاں
میری جاں! تم کو میری فکر کہاں

اک امید تم نے دلا رکھی ہے
ورنہ ہوتا مجھ کو ہے صبر کہاں

جہاں عاشق کو کوئی قید نہ ہو
بتاؤ محبت کا وہ ہے شہر کہاں

04:25 pm | 24-12-2017

دنیا جو اتنی ستم گر نہ ہوتی
ہم کو بھی اتنی فکر نہ ہوتی

جو نہ ہوتی دکھ بھری کہانی اپنی
پھر کہیں بھی وجہ ذکر نہ ہوتی

پھر تو جینا بھی محال تھا
میرے سنگ تو بھی اگر نہ ہوتی

یہ تیری محبت کی ہے عنایت ورنہ
مر جاتے کسی کو خبر نہ ہوتی

ہم بھی اس در کو چھوڑ جاتے
تیری مہک او جاناں جدھر نہ ہوتی

04-20 pm | 24-12-2017

تیری نسبت سے جہاں میں پہچانے گئے
ہم جب بھی ھہاں گئے مانے گئے

جہاں ذکر ہوا محبت کے فقیروں کا
گائے اپنے بھے لیئے کچھ ترانے گئے

اُس سے فقط رسوائیاں میں ہم کو
ہم جب بھی کسی کو منانے گئے

آتشِ عشق کی کیا بات کریں صاحب
جل اس میں بھی کئی گھرانے گئے

وہاں آنسوؤں کی برسات کر آئے ہم
کہانی اپنی جس در پہ سنانے گئے

04:03 pm | 24-12-2017

اک تمنا سی ہو رہی تھی کب سے
عجب سی موت مانگ رہا ہوں رب سے

اُس کے پہلو میں ہو سر، مر جاؤں
وہ جو میرا ہے اور الگ سب سے

وہ اِک ظالم نظر جب مجھ پہ پڑی
بھٹک رہا ہوں میں در در تب سے

وہ جس کا پتہ صدیوں بعد مِلا مجھے
پڑا رہوں گا تیرے در پہ اب سے

03:59 pm | 24-12-2017

اک پل کو جو اس نے نگاہ ڈالی
اس جسم کی اک مورت ہی بنا ڈالی

ہائے اک ہی تو تھی اہل وفا اپنی
اس زمانے نے تو وہ بھی چرا ڈالی

03:49 pm | 24-12-2017

میری عیش یہ تا عمر نہ ہو گی
پھر کسی کو میری فکر نہ ہو گی

تلاش کر کے تھک جائے گا جہاں سارا
کوئی ہم جیسی محبت مگر نہ ہو گی

کیوں دیکھ کر مجھے ہنستا ہے زمانہ سارا
شاید تڑپ ہی میری با اثر نہ ہو گی

ملے اک موقع زندگی جینے کا تو جاناں
تیری محبت میں کوئی کسر نہ ہو گی

03:45 pm | 24-12-2017

میں محبت کا راہی تو میرا ہمسفر
رہا کہانی سے ہماری زمانہ یہ بے خبر

میرا مجرم جہاں سارا ، تیرا تو بس میں
مجھے رسوا کر ، زلت دے، کچھ تو کر

ساحلِ عشق پہ بھٹکنا مہنگا پڑ ہی گیا
بہا لے گئی مجھے محبت کی اک لہر

وصلِ یار کی طلب بھی عجب سی ہے
اک پل نہ ہوتا ہے ہم سے صبر

مدثر سے عشق نے یہ کیا کر دیا
ہو گئے وہ ہم سفر، جو تھے فقط راہگزر